Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسماءِ حسنیٰ: تلاش فطرت کا جواب

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو تمام ضروری چیزوں کو اس کے لئے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس محسنِ اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے، وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں اس کو رہنمائی ملتی ہے۔ خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام "الرّزّاق" ہے۔ انسان جب خدا کو رزاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی طلب کا جواب پالیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: ان اللّٰــــه ھــو الرزاق ذو القوة المتین۔ یعنی بے شک اللہ ہی رزق دینے والا زوروآور زبر دست ہے (الذَّرِیت: 58) اسی طرح جب انسان کائنات اور زمین پر موجود دنیا جس میں انسان کو زندگی اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے۔ تو بودہ دنیا میں انسان کو زندگی گزارنا ہے وہ اس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تمناؤں کے زیر اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے اپنے آپ کو بچائے۔ کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں وہ اپنے لئے تسکین کا سامان پالیکتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے خدا کا ایک نام "الغفور" ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لئے ذہنی تسکین کا سامان پالیکتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہنما ہے: قل عبادی الذین اسرفوا علی انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعاً انه هو الغفور الرحيم ۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے (الزمر: 53)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page