پوائنٹ آف ریفرنس
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
پوائنٹ آف ریفرنس قرآن میں خدا کے جو اسماء حسنیٰ بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لئے ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہنمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کر سکیں اور اس کی مختلف صفات (attributes) کا تصور کر تر ہو ہے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کر سکیں خدا سے اس کی تعلق کا نام کرتے ہوئے خدائی کے لئے دین وہینیت کا دائمی رشتہ قائم رکھیں، خدا کے اس کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لئے تمام اچھے نام ہیں، اس کے بعد فوراً یہ ارشاد ہوا ہے ...... پس تم انہیں اچھے ناموں سے خدا کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو خدا کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں (الاعراف: 180) یعنی انہیں ناموں کے ذریعے خدا کی کامل بالصفات کا تصور قائم کریں کہ ان ناموں کی کفر یا تجدید میں نہ خود ساختہ خدائے کامل الصفات کا صور فراهم کرده نه ان ناموں کے ذریعے، خود ساختہ طور پر بنا لیتے ہیں۔ خدا کیا ہے۔ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز (helplessness) کی تلافی ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجز مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادر مطلق۔ اس لئے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقعے پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسماء حسنی اس کام میں انسان کے لئے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا کے یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے جن خدائی حوالوں کا محتاج ہے، وہ تمام خدائی حوالے ان ناموں کے اندر موجود ہیں۔ آدمی کے اندر جب بھی اپنے عجز، اپنی عبدیت اور اپنی حیثیت انسانی کے اعتبار سے کوئی جذبہ جاگتا ہے تو یہ خدائی نام اس کو فوراً ایک رہنما لفظ دے دیتے ہیں۔ ان رہنما الفاظ کے ذریعے سے وہ اسی طرح خدائے رب العالمین سے مربوط ہو جاتا ہے، جس طرح ٹیلی فون پر ایک نمبر ڈائل کر کے وہ اپنی مطلوب شخصیت سے فی الفور ربط قائم کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader