چند مثالیں
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
چند مثالیں یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (truth seeking (animal اس چھپی ہوئی فطرت کے زیر اثر آدمی کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ کوئی برتر ہستی ہو جو اس کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائے۔ اس وقت وہ پکار اٹھتا ہے کہ اے خدائے ہادی تو مجھ کو اپنی رحمت خاص سے ہدایت عطا فرما۔ موجودہ دنیا میں انسان بار بار ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اس وقت اس کی فطرت میں چھپا ہوا جذ بہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بالاتر ہستی کو پکارے۔ یہاں وہ اسماء حسنیٰ میں اس بالاتر ہستی کا ایک متعلق خدائی نام پالپیتا ہے اور اس کے حوالے سے وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا تو ہی میرا ناصر ہے تو ہر اعتبار سے میری مدد فرما۔ انسان مجرد طور پر نہیں سوچ سکتا۔ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے انسان کو ہمیشہ الفاظ درکار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ کسی تصور کو اپنے ذہن میں لا سکے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ کی نوعیت یہی ہے۔ یہ اسماءِ حسنیٰ یہ بتانے کے لئے نہیں ہیں کہ مطلق طور پر خدا کے نام کیا کیا ہیں، وہ صرف ان اسماء کو بتاتے ہیں جو انسان کی نسبت سے ہم کو درکار ہیں۔ گویا کہ یہ اسماءِ حسنیٰ ضرورتِ انسانی کے اعتبار سے بتائے گئے ہیں، نہ کہ خود ذاتِ خداوندی کی حقیقتِ اعلیٰ کے اعتبار سے۔ اسماءِ حسنیٰ سے مراد صفاتِ حسنیٰ ہیں، مگر اسماءِ حسنیٰ خود خدا کی مطلق نسبت سے خدا کا تعارف نہیں ہیں، وہ انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ دراصل ذکر اور دعا کے لئے انسان کو پوائنٹ آف ریفرنس دیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو رزق درکار ہے تو وہ خدا سے کہہ سکے کہ...... اے رزاق! تو مجھے رزق دے دے۔ ایک شخص اپنے کو عاجز محسوس کرتا ہے، تو وہ کہہ سکے کہ...... اے قادرِ حقیقی! تو میرے عجز کی تلافی فرما۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader