دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
پر اسرار نہیں اسماۓ حسنیٰ کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ حروف مقطعات کی مانند کچھ پر اسرار الفاظ ہیں۔ ان الفاظ کے اندر کوئی معجزاتی تاثر چھپی ہوئی ہے، جیسے کہ جادوگروں کے منتر میں ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کو یاد کر کے ان کا ورد کرتے رہیں۔ اور پھر پر اسرار طور پر ،میں ان کے انوکھے فوائد ملتے رہیں گے۔ اثر لوگوں کے دماغ میں اسی قسم کا تصور بسا ہوا ہے ۔ مگر اسماءِ حسنیٰ کے بارے میں اس قسم کا تصور سرتا سر بے بنیاد ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کسی بھی درجے میں پر اسرار الفاظ نہیں، وہ پورے معنوں میں ایک معلوم اور با معنی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ کا معاملہ بلاشبہ انسان کے لئے ایک عظیم رحمت کا معاملہ ہے۔ مگر یہ رحمت کوئی پر اسرار رحمت نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی رحمت ہے جو پوری طرح ہمارے معلوم دائرے کی چیز ہے اور علمی طور پر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ اسماء حسنیٰ دراصل خدا کی رحمتوں کے معلوم دروازے ہیں۔ قرآن میں ان دروازوں کو اس لئے کھولا گیا ہے کہ آدمی ان کی دریافت کرے اور ان کے راستے سے گزر کر وہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں پہنچ جائے۔ اسماء حسنیٰ گویا کہ رحمت خداوندی کے ابواب حسنیٰ ہیں۔ اسماء حسنیٰ ہم کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسماء حسنیٰ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی وہ کلیدِ معرفت ہے جو ہمارے دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے اور ہم کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ اسماء حسنیٰ اور انسان اگر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں کمیونکیشن کی تاریخ بتائی گئی ہو۔ اس کتاب میں نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسے نام ہوں۔ اس کتاب کو ایک شخص پڑھے خواہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader