Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو، لیکن اگر نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسی چیزوں کو اس نے دیکھا نہ ہو تو وہ ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔ اس قسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لئے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک نا واقف انسان کے لئے وہ صرف ایک معما بن کر رہ جائے گی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسمائے حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسمائے حسنیٰ، قرآن اور حدیث میں نام بہ نام بتا دئے گئے ہیں۔ لیکن ان ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کیلئے ایک نامعلوم چیز کی دریافت (discovery) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اس وقت جان سکتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر ان کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کیلئے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفت خدا وندی کا خزانہ۔ اسم اعظم اسماء حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اسمِ اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں مسند امام احمد کی دو روایتیں اس طرح ہیں: ۱۔ عن انس بن مالک ان النبی صلى الله عليه وسلم سمع رجلاً يقول: اللهم انی اسئلک ان لک الحمد، لا اله الا انت وحدک، لا شریک لک، المنّان، بدیع السموات والارض، ذالجلال و الاکرام. فقال النبی صلى الله عليه وسلم: لقد سالت الله با سم الله الاعظم، الذی اذا دعى به اجاب ، واذا سئل به اعطی (جلد 3 ، صفحه 120 )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page