Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسم اعظم

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

2 عن عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: سمع النبی صلی الله عليه وسلم رجلاً يقول اللهم انی اسئلک باننی اشهد انك انت الله الذی لا اله الا انت، الاحد الصمد، الذی لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفواً احد، فقال: قد سالت الله باسم الله الاعظم، الذی اذا سئل به اعطی واذا دعى به ( احبار، جل 5، ص: 250 ) (350 صَفْحَہ 5 جِلْد ) ترجمہ : انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ تیرے ہی لئے حمد ہے۔ تو ہی اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو بڑا احسان کرنے والا ہے۔ زمین اور آسمان کو کسی نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ تو عزت اور کبریائی والا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ کو اس کے اسم اعظم کے ساتھ پکارا، جس کے ساتھ اس کو پکارا جائے تو وہ ضرور پکار کا جواب دیتا ہے اور جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔ عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی الہ نہیں۔ تو اکیلا ہے، تو بے نیاز ہے۔ تو نے نہ کسی کو جنا اور نہ تجھے کسی نے جنا۔ اور تیرے برابر کوئی نہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کے اُس اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے، جس کے ساتھ اس سے مانگا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے اور جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ضرور اس کو قبول کرتا ہے۔ دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اس کے اور کئی صفاتی نام آئے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہوسکتا۔ اگر اسمِ اعظم کوئی ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف وہی ایک نام ہوتا، جب کہ اس دعا میں واضح طور پر خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page