دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کئی نام ہیں۔ اس واضح اشارے کے باوجو د اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھنا اور اسی ایک نام کی تلاش میں لگے رہنا بلا شبہ ایک غلطی ہوگی۔ اسمِ اعظم کسی لفظِ اعظم کا نام نہیں ہے بلکہ وہ مفہومِ اعظم کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے بلکہ وہ خصوصی کیفیت کے ساتھ خدا کو پکارنے کا نام ہے۔ اسمِ اعظم سے مراد اسمِ اعظم نہیں ہے بلکہ کیفیتِ اعظم ہے۔ مذکورہ دعا میں صحابی نے کسی رٹے ہوئے دعائیہ لفظ کو استعمال نہیں کیا، بلکہ جذبات کے وفور میں ان کی زبان سے کچھ خاص الفاظ نکل گئے، اسی کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ اسمِ اعظم کا تعلق دراصل ربانی کیفیت سے ہے۔ کیفیت سے بھرے ہوئے الفاظ میں خدا کو پکارنے کا نام اسمِ اعظم ہے۔ ایک وضاحت مذکورہ حدیث میں ایک صحابی کی دعا کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دعا کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا اسم اعظم کی دعا تھی۔ چوں کہ یہ دعا صحابی نے عربی زبان میں کی تھی، اس لئے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اسم اعظم والی دعا وہی ہے جو عربی زبان میں کی گئی ہو، غیر عربی زبان کی دعا اسم اعظم کی دعا نہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صحابی نے جو دعا کی، وہ ان کی اپنی مادری زبان میں تھی، نہ کہ سادہ طور پر عربی زبان میں۔ دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کرنا ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ دعا دل کے جذبات کا نام ہے، نہ کہ کسی زبان کے الفاظ کا نام۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا (ابراہیم: 4) یہی معاملہ دعا کا بھی ہے۔ جس طرح دعوت مخاطب قوم کی زبان میں ہوتی ہے، اسی طرح دعا، دعا کرنے والے کی اپنی مادری زبان میں ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader