Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا ماننا بہت ضروری ہے۔ اس لئے کہ اگر دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے یا عربی زبان کی دعا کو افضل دعا بتایا جائے تو یہ دعا کی اصل روح کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ دعا کسی قسم کی تکرار الفاظ کا نام نہیں، دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار کا نام ہے، اور ایسی دعا ہمیشہ آدمی کی اپنی مادری زبان ہی میں ظہور میں آتی ہے۔ دعا لیا ہے دعا کسی ٹیکنیکل واقعے کا نام نہیں، دعا ایک داخلی طوفان کا خارجی اظہار ہے۔ جب ایک انسان خدا کو اس کی عظمت و کبریائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے جب ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کو خدا کی موجودگی کا اتنا شدید احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے۔ جب اس پر وہ طوفانی تجر بہ گزرتا ہے، جس کو حدیث میں: ذکر اللہ خالياً ففاضت عيناه (البخاری‘ كتاب الرقاق) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور شدتِ تاثر سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اس نے دنیائے امتحان کے بارے میں سوچا، اس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا‘ وہ ان ربانی کیفیات سے گزرا، جب کہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب اس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جب کہ سب کچھ اس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے‘ خدا کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔ ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آجاتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر امڈ پڑتا ہے۔ جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی ربانی فطرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page