دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ میں بہت سے خدا کے بندے ہیں، جن کو اس قسم کی دعاء اعظم کی توفیق ملی ہے۔ دعا کے ذریعے شرکت قرآن کی سورہ نمبر 9 میں کچھ اہل ایمان کا ذکر ہے۔ غزوہ تبوک (8 ہجری) کے موقع پر چوں کہ نفیر عام تھی، اس لئے وہ اس میں جانا چاہتے تھے۔ مگر ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اس طویل سفر کے لئے ضروری سامان کی تیاری کر لیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لئے آئے، مگر آپ نے معذرت فرمائی۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے: اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو اس پر سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے، اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں (التوبہ: 92) یہ افراد غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے، مگر ایک حدیثِ رسول کے مطابق، خدا کے نزدیک وہ اس میں شریک مانے گئے۔ غزوہ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق اپنے اصحاب سے فرمایا: بالمدینۃ اقواماً، ماسرتم میسراً، ولا انفقتم من نفقۃ، ولا قطعتم من واد، الا وهم معكم فیہ ۔ یعنی مدینہ میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ تم جب کسی راستے پر چلے یا جب بھی تم نے کچھ مال خرچ کیا یا تم کسی وادی سے گزرے تو وہ اس میں تمہارے ساتھ تھے (القرطبی، جلد 8، صفحہ 292، مسند احمد، جلد 3، صفحہ 103) یہ بڑا عجیب انعام تھا جو مدینہ کے ان افراد کو ملا، یعنی عمل کے بغیر عمل کے انعام میں شرکت۔ میں غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انوکھا انعام ان کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی بنا پر ملا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کہ وہ اپنی تنہائیوں میں رو رو کر یہ دعا کر رہے ہوں کہ۔۔۔۔۔۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader