دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
خدایا! تو نے دوسروں کو جو انعام عادل ہونے کی حیثیت سے دیا، وہ انعام مجھ کو رحیم ہونے کی حیثیت سے دے دے۔ تو نے دوسروں کے لئے جو چیز ان کے عمل کے بنا پر مقدر کی، وہ چیز میرے لئے میری دعا کے نتیجہ میں مقدر کر دے۔ تو نے جو کچھ دوسروں کو استحقاق کی بنا پر عطا فرمایا، وہ چیز مجھ کو سوال کرنے والے کی حیثیت سے دے دے۔ دوسروں کو جو چیز تو نے استطاعت کی بنا پر دی، وہ مجھ کو عجز کی بنا پر دے دے۔ تو نے دوسروں کو جو چیز مومنِ قوی ہونے کی حیثیت سے دی، وہ مجھ کو مومن ضعیف ہونے کی حیثیت سے دیدے، کیوں کہ تیرے رسول نے ہم کو یہ خبر دی ہے کہ: ضعیف مومن کے لئے بھی خیر ہے (وفی کل خیر، صحیح مسلم، کتاب القدر)۔ اسم اعظم کا علم خدا کو اسمِ اعظم، اسماء حسنیٰ سے الگ کوئی نام نہیں، وہ انہی ناموں میں شامل ہے۔ اسماء حسنیٰ میں سے کوئی اسم اس وقت اسمِ اعظم بن جاتا ہے جب کہ دعا کرنے والا اس کو ایک غیر معمولی جذبے کے تحت استعمال کرے۔ پکارنے والے کا جذبہ اسمِ اعظم، اسماء حسنیٰ میں سے کسی اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔ اسمِ اعظم کوئی پراسرار منتر نہیں، وہ مکمل طور پر ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پکارنے والا یہ جانے کہ اس نے اسمِ اعظم کے ذریعہ خدا کو پکارا ہے۔ یہ دراصل خدا کی قبولیت ہے جو کسی اسم کو اسمِ اعظم کا درجہ دے دیتی ہے۔ اسم بظاہر ایک معلوم لفظ کا نام ہے، لیکن کسی چیز کا اسمِ اعظم ہونا، تمام تر داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ چوں کہ داخلی اسپرٹ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لئے یہ صرف اللہ ہے جو جانتا ہے کہ کب اس کے بندے نے اس کو اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا۔ یہ حقیقت صرف آخرت میں کھلے گی کہ وہ کون خوش قسمت انسان تھا جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader