دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملے میں اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو وہ صرف بر بنائے قیاس ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو حقیقی علم کی بنیاد پر اس بارے میں کوئی رائے دے سکے۔ خدا اور بندے کے درمیان خدا نے انسان کے لئے اپنے جن اسماء حسنی کا تعارف کرایا ہے، وہ انسان کے اوپر ایک دروازہ رحمت کھولنے کے ہم معنی ہے۔ اسمائے حسنیٰ یہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان مواقع اتصال (meeting points) کیا کیا ہیں۔ ان مواقع اتصال کے ذریعے بندہ خدا سے قربت حاصل کر سکتا ہے۔ پھر اگر بندے کی اسپرٹ بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذکر اور اپنی دعا میں اسمِ اعظم کا استعمال کر سکے، یعنی اس اسم یا نام کا استعمال جس کے استعمال کے بعد ربانی اتصال اچانک اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے، جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے کے بعد اچانک بجلی کے بلب کا فوراً روشن ہو جانا۔ یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، جس کو خود انسانوں کے درمیان محسوس تعلقات کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ دعا اور سپر دعا دعا، یا خدا کو پکارنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر کچھ متعین الفاظ بول کر خدا سے مانگنا۔ دوسری دعا وہ ہے جس کو سپر دعا کہا جا سکتا ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس کو پکارنے والا ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں پکارتا ہے کہ وہ خود خدا کے لئے، بلا تشبیہ، اسی طرح ایک ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے، جس طرح وہ دعا کرنے والے کے لئے ایک ذاتی مسئلہ تھا۔ پہلی دعا اگر روایتی دعا (traditional dua) ہے تو دوسری دعا تخلیقی دعا (creative dua) ہے۔ انگریزی میں پہلی قسم کی دعا کو ریکویسٹ (request) کرنا کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کی دعا کو انووک (invoke) کرنا، جیسے کہ کہا جائے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader