Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا اور سپر دعا

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا اور اسمِ اعظم کی دعا میں یہی فرق ہے۔ دعا عام قسم کی ایک دعا ہے، اور اسمِ اعظم کی دعا گویا کہ ایک سپر دعا۔ یہاں ہم ایک واقعہ نقل کریں گے جو سپر دعا کے معاملے کو سمجھنے کے لئے ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک واقعہ رام پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ... میرے لئے ایک بائسیکل خرید دیجیے۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائسیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا، اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: میں نے کہہ دیا کہ میں بائسیکل نہیں خرید سکتا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا ورنہ ہم کو ماروں گا۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اسکے بعد وہ روتے ہوئے بولا۔ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں۔ اس جملے نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمہارے لئے بائسیکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لئے ایک نئی بائسیکل خرید دی۔ لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سر پرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایسے نقطے پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سر پرست کیلئے بھی اتناہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا کہ وہ خود اس کیلئے تھی۔ بیٹے کے الفاظ نے باپ کو اس سنگین سوال سے دوچار کر دیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page