Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا اور سپر دعا

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو بائیسیکل نہ دے تو اس کی پدر بیت (fatherhood) مشتبہ ہو جائے گی ۔ اس واقعے سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دعا کی وہ کون سی قسم ہے جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں ۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے ، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘‘ ہے ۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے ۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپکتا ہے جس کا تحمّل زمین اور آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ مانگنے والا اور دینے والا دونوں ایک ترازو پر آ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ اس واقعے پر غور کیجئے تو اس میں دونوں قسم کی دعا کی مثال نظر آئے گی۔ مذکورہ بچے نے جب پہلی بار اپنے باپ سے یہ کہا کہ مجھے ایک بائیسکل خرید دیجئے تو اس نے گویا کہ صرف دعا کی، لیکن دوسری بار جب اس نے رو کر یہ کہا کہ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے بائیسکل کے لئے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں۔ جب بچے کی زبان سے یہ دوسرے الفاظ نکلے تو وہ گویا کہ ایک سپردعا تھی۔ پہلے قسم کے الفاظ سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، لیکن دوسرے قسم کے الفاظ نے باپ کو پگھلا دیا۔ اب وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ فوراً بائیسکل خریدنے کیلئے تیار ہو گیا۔ اس مثال سے عام قسم کی دعا اور اسم اعظم کی دعا کا فرق سمجھا جاسکتا ہے۔ عام قسم کی دعا محض دعائیہ الفاظ کو زبان سے دہرادینے کا نام ہے، لیکن اسم اعظم کے ساتھ کی گئی دعا گویا کہ سپردعا ہے۔ ایسی دعا خود خدا کو ہلا دیتی ہے جیسا کہ مظلوم کی دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: دعوة المظلوم تحمل علی الغمام و تفتح لها ابواب السماء، یقول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page