دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
الرب عزوجل: وعزتي ، لانصرنك ولو بعد حين (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 305) دعا اور سپرد دعا کا فرق الفاظ کا فرق کا نام نہیں ، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپرٹ میں فرق کا نام ہے۔ یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالت داخلی پر منحصر ہے کہ اس کی زبان سے نکلنے والی دعا، سپرد دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔ دومثايل اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں ۔ اس نے ان دعاؤں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں ان کو دہرانے لگا۔ مثلاً یہ دعا: ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرة حسنة و قنا عذاب النار۔ یعنی اے ہمارے رب تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (البقرۃ: 201)۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔ اب سپر دعا کی ایک مثال لیجئے۔ اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی، جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنہوں نے مصر میں دعوت توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اسکی بیوی آسیہ بنت مزاحم حضرت موسیٰ کی دعوت توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ قدیم زمانہ ’الناس علی دین ملوکھم‘ کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا اور اس کو وہ سزا دی جاتی تھی جو ریاست سے بغاوت کے لئے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader