بے برداشت نہ بنو
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کی ہے باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں تو وہ غلبہ پا کر غیر ضروری سرگرمیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور سماج کو نئے نئے مسائل میں الجھا کر رکھ دیں گے۔ اگر انھوں نے اپنے آپ کو انتقام کی نفسیات سے بلند نہیں کیا ہے تو اقتدار پانے کے بعد وہ اپنے سابق دشمنوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیں گے۔ حتیٰ کہ فوج اور انتظامیہ کے اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کو ختم کر کے ملک کو اتنا کمزور کر دیں گے کہ ملک کو سنبھالنا ہی ناممکن ہو جائے۔ اگر انھوں نے اپنے اندر برداشت کی قوت پیدا نہیں کی ہے تو وہ ہر اس شخص یا گروہ سے لڑائی چھیڑ دیں گے جس سے ان کے نفس کو چوٹ لگے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کے غلبہ کے باوجود اسلام کا اصل کام ( بندگانِ خدا کو خدا سے جوڑنا ) بدستور ان ہوا پڑا رہ جائے گا۔ جو شخص جذبات سے بے قابو ہو جائے وہ ایک خرابی کو مٹانے کے نام پر ایسا اقدام کرے گا جس سے کئی شدید تر خرابیاں پیدا ہو جائیں۔ جب بھی کسی کی طرف سے ناپسندیدہ بات سامنے آتی ہے تو آدمی صرف ایک بات سوچتا ہے: یہ مخالف ہے، اس کو کچل ڈالو۔ مگر یہ انسان کا بہت ناقص اندازہ ہے۔ خدا نے انسانی نفسیات میں بے حد لچک رکھی ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان ایک حالت پر قائم نہیں رہتا بلکہ بدلتا رہتا ہے۔ اور برداشت کا مطلب اسی انسانی امکان کا انتظار کرنا ہے۔ شریعت میں صابرانہ طریق کار کی تلقین اسی لیے کی گئی ہے کہ اس آنے والے وقت کو آنے کا موقع دیا جائے جب کہ "آج" کے انسان کے اندر چھپا ہوا کل کا انسان برآمد ہو جائے۔ بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو فی الواقع سوچ سمجھ کر کسی چیز کے مخالف بنتے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی مخالفت محض اضافی اسباب کی بنا پر ہوتی ہے کبھی ایک آدمی محض غلط فہمی کی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader