بے برداشت نہ بنو
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
”بے برداشت نہ ہو جائو“ کا اصول حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی خلاف ورزی کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ ملے ہوئے مواقع کی حرص میں ملے ہوئے مواقع بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ ایک حکمراں جو غیر سیاسی دائرہ میں کام کرنے کا موقع دے رہا ہے، اس کو سیاسی اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی جانے لگے تو وہ غیر ضروری طور پر اہل حق کو اپنا حریف سمجھ لیتا ہے اور حکومتی قوت سے کام لے کر انھیں کچل ڈالتا ہے۔ فریق ثانی اگر زور اور حیثیت رکھتا ہے اور اس کے افراد سے بعض زیادتیاں سرزد ہوتی ہیں اور ان کو برداشت نہیں کیا جاتا تو اس کے بعد عمومی سطح پر ایسے فسادات برپا ہوتے ہیں کہ پوری زندگی تہس نہس ہو جاتی ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی تعمیری کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ جب بھی آدمی کوئی کام شروع کرتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں مختلف لوگوں کی طرف سے شکایت اور نقصانات سامنے آتے ہیں۔ آدمی اگر ہر شکایت اور ہر نقصان کو اہمیت دے اور اس کی بنیاد پر لوگوں سے لڑنا شروع کر دے تو اصل کام رک جائے گا اور بس لڑائی جھگڑے باقی رہیں گے۔ دوسرے یہ کہ بالفرض ان تمام نادانیوں کے باوجود اہل حق کو غلبہ دے دیا جائے تو عدم تیاری کی بنا پر وہ اس کو سنبھال نہ سکیں گے۔ اگر کسی گروہ میں اتحاد نہ ہو تو غلبہ پانے کے بعد وہ آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے، جو ٹکراؤ پہلے حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان جاری تھا وہ خود حق پرستوں کے اپنے درمیان ہونے لگے گا۔ اگر ان کے افراد میں کردار پیدا نہ ہوا ہو اور انھیں اقتدار پر قبضہ مل جائے تو وہ اصلاح کے بجائے صرف فساد کا سبب بنیں گے اور نتیجہ حق کے بارے میں ایسی بدگمانیاں پیدا ہوں گی کہ لوگ اس کو ایک قابل نفرت چیز سمجھنے لگیں۔ اگر انھوں نے اپنے اندر یہ مزاج پختہ نہیں کیا ہے کہ ان کے نزدیک ساری اہمیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader