Urdu book · فسادات کا مسئلہ

بے برداشت نہ بنو

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی چیز کا مخالف بن جاتا ہے کبھی وقتی تقاضے کسی شخص کو آپ کے بالمقابل محاذ میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ کبھی حیثیت اور منصب کے مصنوعی مسائل آدمی پر اتنا غالب آتے ہیں کہ وہ کسی بات کے اعتراف سے رک جاتا ہے۔ کبھی کسی کے اختلاف کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ معاملہ کو ایک رخ سے دیکھ رہا ہے اور آپ اس کو دوسرے رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس قسم کے اختلافات حقیقی اختلافات نہیں ہوتے۔ وہ محض حالات کے تابع ہوتے ہیں اور حالات کے بدلنے کے ساتھ ہمیشہ بدل جاتے ہیں۔ تاہم کچھ مخالفین ایسے ہوتے ہیں جو اپنی مخالفت میں جارحیت کی حد تک جاتے ہیں۔ وہ سازش کرتے ہیں، وہ تخریب کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور امتحان کی اس دنیا میں بہر حال ان کو بھی اسی طرح عمل کی آزادی حاصل ہے جس طرح کسی دوسرے کو حاصل ہے۔ ایسے لوگوں سے مقابلہ کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جھنجھلاہٹ کے بجائے صبر اور حکمت کے ساتھ اپنا راستہ نکالا جائے۔ کسی گروہ کی بے صبری اور غیر دانش مندی اس کے دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ سب سے زیادہ نادان وہ ہے جو خود اپنی طرف سے دشمن کو یہ ہتھیار فراہم کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page