چھوٹے شر کو نظر انداز کرو
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے شر کو نظر انداز کرو عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ احْتِلَامِهِ، أَوْصَى وَلَدَهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكُمْ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، مَنْ يَحْلُمُ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمُ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ يَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ عَلَى الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى، وَلْيِثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ عز وجل، فَإِنَّهُ مَنْ وَثِقَ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ لَمْ يَضُرُّهُ مُسَّ الْأَذَى (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر 2258)۔ یعنی، حضرت عمر بن حبیب بن خماشہ جنھوں نے اپنی بلوغت کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تھا، اپنے لڑکے کو وصیت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ اے میرے بیٹے، نادانوں کی صحبت سے بچو کیونکہ ان کی صحبت میں بیٹھنا بیماری ہے۔ اس کو خوشی ملی جس نے نادان آدمی سے درگزر کیا۔ اور وہ شخص پچھتایا جس نے اس سے دوستی کی۔ اور جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہو، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا اور جب تم میں سے کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنا چاہے تو اپنے آپ کو تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار کر لے اور اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ کرے کیونکہ جو شخص اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ کرے گا اس کو تکلیف کا پہنچنا نقصان نہ دے گا۔ ایک نادان شخص اگر کسی کی طرف کنکری پھینکے تو اس کا فوری تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader