Urdu book · فسادات کا مسئلہ

چھوٹے شر کو نظر انداز کرو

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

بھر پور جواب دیا جائے۔ حالانکہ نادان کی کنکری کا زیادہ بہتر جواب اس کو برداشت کر لینا ہے ۔ ” کنکر “ کو برداشت کر کے آپ معاملہ کو ” پتھر “ تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نادان کے شر کو برداشت نہ کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ بالآخر اس سے زیادہ بڑے شر کو برداشت کرنے پر اپنے کو راضی کیا جائے۔ ایک فرقہ کا پہلوان دوسرے فرقہ کے زیر انتظام اکھاڑے میں اس فرقہ کے پہلوان سے کشتی لڑتا ہے ۔ کشتی کے خاتمہ پر پہلے فرقہ کے پہلوان کو شکایت ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اس دھاندلی کو برداشت کرلے اور اگلے سال اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ مقابلہ کے میدان میں اترے کہ وہ دھاندلی کی حد کو پار کر چکا ہو۔ اس کے برعکس ، اگر اس نے دھاندلی کو برداشت نہ کیا اور دھاندلی کا بدلہ لینے کے لیے دوسرے فرقہ کے پہلوان کو قتل کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں ایسا فساد رونما ہوگا جو اس فرقہ کی پوری بستی کو ویران کر دے گا۔ اکھاڑے کی دھاندلی نہ برداشت کرنے کی قیمت معاشی بر بادی ، سماجی ذلت اور جانوں کی ہلاکت کی صورت میں دینی پڑے گی ۔ اسی طرح مثلاً ایک فرقہ کے لوگ اپنی عبادت گاہ میں سالانہ عبادت ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر دوسرے فرقہ کا گندا جانور چھوڑ کر عبادت گزاروں کی صف میں داخل ہو جاتا ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے لیکن اگر اس تکلیف کو برداشت کر لیا جائے تو صرف ایک وقتی اور معمولی واقعہ پر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد ایسا فساد برپا ہوگا جو کتنی ہی بستیوں کو خاکستر بنا دے گا اور اتنے زیادہ نقصانات سامنے آئیں گے جن کی تلافی برسہا برس تک بھی نہ ہو سکے۔ ایک عبادت گاہ ہے۔ اس کے پاس سے دوسرے فرقہ کے لوگ باجا بجاتے ہوئے گزرے اور اس سے عبادت کرنے والوں کو تکلیف پہنچی۔ اگر اس کو برداشت کر لیا جائے تو وقتی تکلیف کے بعد صورت حال معمول پر آجائے گی۔ لیکن اگر عبادت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page