Urdu book · فسادات کا مسئلہ

چھوٹے شر کو نظر انداز کرو

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے والے اس پر بگڑ جائیں اور جلوس پر پابندی لگانے کی کوشش کریں تو اس کے جواب میں ضد اور عناد ابھرے گا جو بالآخر لڑائی اور فساد کی صورت اختیار کرلے گا۔ جن لوگوں نے چند منٹ کے باجے کا سننا برداشت نہیں کیا تھا انھیں آگ اور خون کا منظر دیکھنے کو برداشت کرنا پڑے گا۔ آدمی بہت جلد اس کے لیے تیار ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھلائی کا حکم دے اور اس کو برائی سے روکے۔ کیوں کہ دوسروں کے ساتھ ایسا کرنے میں اس کی انا کے لیے تسکین ہے۔ اس سے نفس کو یہ لذت ملتی ہے کہ میں حق پر ہوں اور دوسرا میرے مقابلہ میں ناحق پر ہے۔ مگر بھلائی کا وعظ کہنا اور برائی سے روکنا صرف اس شخص کے لیے جائز ہے۔ جو اس کے تقاضے کو اپنانے کے لیے تیار ہو۔ اور اس کا تقاضا تکلیفوں پر صبر کرنا ہے۔ جب بھی ایک آدمی دوسرے کو ٹٹو کے گا اور اس کے اوپر تنقید کرے گا تو لازما ایسا ہوگا کہ وہ شخص برہم ہوگا۔ ایسے موقع پر ٹٹو کرنے والے کو برف کی طرح نرم ہو جانا چاہیے۔ اگر وہ خود بھی اس کے جواب میں برہم ہو جائے تو وہ برائی سے ٹو کنے والا نہیں ہے بلکہ وہ ایک برائی کو دوسری برائی کرنے کا مجرم ہے جو خدا کے یہاں کسی حال میں قابل معافی نہیں۔ وعظ و نصیحت کے جواب میں پیش آنے والی تکلیفوں پر برہم ہونے سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس نے وعظ و نصیحت کا کام تمام تر اللہ کی خاطر شروع کیا ہو۔ جس اللہ سے وہ دوسرے کو ڈرا رہا ہے جب وہ خود اس سے ڈرنے والا بن چکا ہے تو وہ ایسا کام کیوں کر کر سکتا ہے جو صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ سے بے خوف ہو چکے ہوں۔ جو شخص انسانوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر بگڑتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا بدلہ انسانوں سے چاہتا تھا اور جب انسانوں کی طرف سے بدلہ نہیں ملا تو وہ بگڑ گیا۔ مگر جو آدمی اپنے عمل کا بدلہ اللہ سے لینے کا امیدوار ہو وہ اس کی بالکل پروا نہیں کر سکتا کہ لوگ اس کے کام کی تعریف کر رہے ہیں یا تنقید۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page