جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
روم نوفل نے بھاگ کر قسطنطنیہ میں پناہ لی۔ معتصم باللہ نے عرب خاتون کو رومی قید سے آزاد کرایا اور اس کو اس کے گھر پہنچادیا (تاریخ ابن خلدون، جلد 3، صفحہ 327)۔ کسی معاشرہ میں ”فساد“ نہ ہونے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد مظلوم کی پکار پر دوڑ پڑیں۔ اس کے برعکس، جہاں لوگوں کو مظلوم کی پکار سے دلچسپی نہ ہو، وہ صرف اس وقت بیان اور تقریر کا کرشمہ دکھانے کے لیے باہر آئیں جب کہ اس کے اندر اخباری اہمیت (نیوز ویلو) پیدا ہو چکی ہو، ایسے معاشرہ میں ہر وقت فساد کے اسباب پرورش پاتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی پھوٹ پڑتے ہیں۔ آج لوگوں میں انفرادیت (self-interest) اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ایک شخص خواہ کتنا ہی پکارے، کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں دوڑتا۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس کی مدد کے لیے اپنے اندر کوئی تڑپ نہیں پاتے جو بے انصافی کے خاتمہ کے نام پر اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ لوگ ظلم اور بے انصافی کے نام پر تقریریں کرتے ہیں۔ مگر جب ایک واقعی مظلوم ان کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ ان مقرر لیڈروں کو اس کی مدد پر پہنچنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ موجودہ فرقہ وارانہ فساد کا کم از کم ایک جزئی سبب یہ بھی ہے ۔ ایک مقام پر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو ستایا۔ اس نے اپنی قوم کے لیڈروں کو مدد کے لیے پکارا۔ مگر کوئی ایک شخص بھی اس کی مدد پر نہ اٹھا۔ اس واقعہ کا اس پر اس قدر شدید ردعمل ہوا کہ مسلمانوں سے اس کو نفرت ہوگئی۔ اس نے ایک سازش کر کے اپنے مقام پر ایک فرقہ وارانہ فساد کرا دیا۔ اور جب فساد کا ہنگامہ شروع ہوا تو اس کے دوران اس نے ان لوگوں کے گھر جلا ڈالے جن سے اس کو شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ کسی معاشرہ کا سب سے بڑا فساد باہمی بے اعتمادی ہے اور انفرادی ظلم پر نہ دوڑنا معاشرہ کے اندر برائی پیدا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader