Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

خانہ اور بیت الخلا دونوں ایک ساتھ ملے ہوئے تھے۔ نیچے والے نے اوپر والے سے کہا تو انھوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے محلہ والوں سے کہا اور اپنی مصیبت ان کو دکھائی۔ مگر انھوں نے بھی کوئی دردمندی ظاہر نہ کی۔ ایک شخص نے کہا: ”بھائی، ہمارے شہر کا رواج تو یہ ہے کہ جس کے سر پر ٹپکے وہ بنوائے۔“ کرایہ دار نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہیں۔ اصول یہ ہونا چاہیے کہ ”جو ٹپکائے وہ بنوائے۔“ مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے دلائل بے زور ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ مسلمان تھے۔ اس نے قرآن وحدیث کے احکام سنائے مگر قرآن وحدیث کے الفاظ بھی ان کے دل کو پگھلانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئے۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم ان کے خلاف نوٹس دو اور مقدمہ قائم کرو۔ مگر اس نے غور کیا تو مقدمہ کے اخراجات اور اس کی مدت اتنی زیادہ تھی کہ عملاً اس کے لیے اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنے پاس سے خرچ کر کے خود اس کو بنوا دیا ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑے تا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ وہ جانتا ہے کہ موجودہ دنیا میں دلیل سے زیادہ کمزور کوئی چیز نہیں۔ دلیل سے خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کسی کو ملزم ثابت کر دیا جائے عملاً اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ آج کی دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو دلیل کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ اس سلسلہ میں مسلمان اور غیر مسلمان حتیٰ کہ دین دار اور بے دین کا بھی کوئی فرق نہیں۔ یہ بات اپنے ذاتی معاملہ میں ہر شخص جانتا ہے۔ اس لیے جب کوئی ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر پانی اپنے سرپٹکتا ہے، تو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ دلیل اور بحث سے کوئی فائدہ نہیں۔ وہ اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوئے فوراً یہ کرتا ہے کہ معاملہ کو خود درست کر لیتا ہے۔ مگر عجیب بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page