Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ زندگی کا یہی سادہ اصول ملت کے معاملہ میں کوئی شخص اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ ملت کا سوال آتے ہی ہر شخص اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ وہ فریق ثانی کو ملزم ثابت کرے ۔ یہ سنگین واقعہ بھی لوگوں کے جوش میں کوئی کمی نہ کر سکا کہ 35 سالہ کوشش کے باوجود ابھی تک اس طریق عمل کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔ یہ صورت حال اتفاقاً نہیں۔ اس کے گہرے اسباب ہیں۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا سب سے آسان کام ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اس کے مقابلہ میں اتناہی مشکل ہے۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا ہو تو الفاظ بول کر ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے ۔ مگر جب آدمی خود ذمہ داری کرے تو پھر عمل اور جدوجہد کے طویل تقاضے سامنے آجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے قائدین صرف الفاظ بول کر قیادت کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ۔ وہ کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر وہ فی الواقع کرنے کی تڑپ رکھتے تو ان کا اندازہ بالکل دوسرا ہوتا۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ حالات کے اندر موجود عوامل کو استعمال کیا جائے۔ اور حالات کے غیر معمولی بگاڑ کے باوجود یہاں ایسے عوامل موجود ہیں جن کو ہم اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دو فریقوں کے درمیان خواہ کتنی ہی تلخ یادیں ہوں ، زندگی کے روزمرہ کے مسائل ان پر غالب آجاتے ہیں۔ برادران وطن کے معاملہ میں اس عامل کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے۔ کیونکہ ”زر“ ان کے نزدیک معبود کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کا ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کو پانا چاہتا ہے وہ دولت ہے۔ ان کی خوش قسمتی سے ملک میں دولت حاصل کرنے کے تمام بڑے ذرائع پر ان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ خود مسلمان ان کی دولت کی فراہی کے عمل میں ایک معاون پرزہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اس ملک میں فساد کے خلاف سب سے بڑا روگ ہے کیونکہ فساد کا کاروبار کے سارے نظام کو درہم برہم کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page