فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
دیتا ہے۔ پھر جن لوگوں کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہو وہ اپنے ملے ہوئے مقصد کو خود اپنے ہاتھوں ویران کرنا کیوں پسند کریں گے۔ مراد آباد کی مثال لیجیے، جہاں اگست 1980 میں بھیانک فساد ہوا۔ مراد آباد ایک صنعتی شہر ہے، یہاں سے سالانہ تقریباً 60 کروڑ روپے کا سامان تیار ہو کر باہر جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سامان بنانے کا کام سب کا سب مسلمان کرتے ہیں۔ مگر کاروبار عملاً دوسرے فرقہ کے ہاتھ میں ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خام مال کی سپلائی اور تیار شدہ سامان کی فروخت دونوں کام کا تقریباً 90 فی صد حصہ دوسرے فرقہ کے قبضہ میں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کارخانوں میں دھوئیں اور گندگی کے درمیان ساری مشقت مسلمان اٹھاتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی محنت کے بل پر کروڑوں روپے کما رہا ہے۔ ایک زر پرست قوم کو اس کا مطلوب جب اتنے شان دار طریقہ پر مل رہا ہو تو وہ آخر فساد کیوں چاہے گی ۔ وہ بازار کو ویران کر کے اپنے ملتے ہوئے فائدہ کو بھنگ کس لیے کرے گی۔ اس کے علاوہ اس ملک میں فساد ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ 1947ء سے لے کر اب تک تقریباً 10 ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی دو آدمی ہوتا ہے۔ ایک غصہ دلانے سے پہلے، دوسرا غصہ دلانے کے بعد یہ بظاہر سیدھا سادہ آدمی بھی غصہ میں آنے کے بعد بھیڑیا بن جاتا ہے۔ یہ فرق ہر آدمی میں پایا جاتا ہے۔ پھر جب کسی اشتعال انگیز واقعہ کے بعد اس شخص یا گروہ کا دوسرا انسان جاگ اٹھے جس کے اندر فریق ثانی کے لیے پہلے سے نفرت کے اسباب چھپے ہوئے تھے اور وہ اس کے مقابلہ میں طاقتور بھی ہو تو اس کے بعد وہ جو کچھ کرے گا وہ وہی ہو گا جس کا نمونہ ہم پچھلے 35 سال سے دیکھ رہے ہیں۔ زر پرستی آدمی کے اندر انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ایک شخص کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader