Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی کے خلاف ابتدائی اشتعال کا واقعہ پیش آنے کے بعد بھی شاید ایسا نہ ہوتا کہ ایک فرقہ میں عمومی سطح پر اشتعال وانتظام کی فضا پیدا ہو جائے ۔ مگر یہاں کی سیاسی لیڈر پوری کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب الیکشن ہوتا ہے تو فطری طور پر کوئی جیتتا ہے اور کوئی ہارتا ہے۔ اب جو ہارنے والے لیڈر رہیں وہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو اس کو ہوا دے کر عمومی فساد کرا دیں۔ تاکہ ایک طرف جیتی ہوئی حکمراں پارٹی کو بدنام کیا جائے اور دوسری طرف ان ووٹروں کو سزا دی جائے جنھوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا۔ اور بدقسمتی سے یہ ووٹ نہ دینے والے اکثر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اگر ہر فساد نہیں تو اکثر فساد کے پیچھے یہی الیکشنی سیاست کارفرما ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ اپنی مرضی کے خلاف فیصلہ قبول کرنے پر راضی نہ ہوں وہاں الیکشن مسئلہ کو ختم نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کوئی صورت میں زندہ رکھنے کا سبب بن جاتا ہے۔ فساد کیسے ہوتا ہے کوئی فساد کس طرح شروع ہوتا ہے اور وہ کس طرح بڑھتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے علی گڑھ اور مراد آباد کے فساد کی مثال لیجیے۔ علی گڑھ میں ہر سال کشتی کا دنگل ہوتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں حصہ لیتے ہیں۔ اگست 1978 کے دنگل میں مسلم پہلوان کو یہ شکایت ہوئی کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کی شکایت کا خاص نشانہ سرینش بھورے تھا جس سے اس کی پہلے سے بھی رقابت چلی آرہی تھی۔ دنگل کے شکایت کے بعد مسلمان پہلوان نے طے کر لیا کہ سرینش بھورے سے انتقام لینا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی اسی فکر میں رہے۔ یہاں تک کہ 13 اکتوبر 1978 ی شام کو انصار احمد اور اس کے ساتھی سرینش بھورے کو اکیلا پا گئے۔ انھوں نے اس کے اوپر چھری سے حملہ کیا۔ سرینش بھورے کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page