Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فساد کیسے ہوتا ہے

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

سخت زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں اس نے اپنے قاتلوں کے بارے میں نام زد بیان درج کرایا۔ وہ زخم سے جانبر نہ ہو سکا اور 15 اکتوبر 1978 کو مر گیا۔ سریش بھورے کا مرنا شہر کے بارے ہوئے فرقہ پرست لیڈروں کو سنہری موقع ملنا تھا۔ انھوں نے سریش بھورے کا جلوس نکالا اور نعرہ لگایا کہ خون کا بدلہ خون انھوں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے پورے شہر کی فضا خراب کر دی ۔ یہاں تک کہ وہ فساد شروع ہوا جس نے علی گڑھ کو خاکستر بنا دیا۔ اب مراد آباد کو لیجیے۔ 1980 کے آغاز میں یوپی اسمبلی کا جو الیکشن ہوا اس میں کانگریس (آئی) کے امیدوار حافظ محمد صدیق بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ جن سنگھ (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے امیدوار ڈاکٹر ہنس راج چو پڑہ کو اتنے کم ووٹ ملے کہ ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ حافظ محمد صدیق کو نہ صرف مسلمانوں کے ووٹ ملے بلکہ ہندوؤں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ان کو ووٹ دیا۔ ہارے ہوئے سیاست دانوں کو اس واقعہ کا شدید غم تھا۔ وہ اسی موقع کی تلاش میں تھے ۔ ان کی خوش قسمتی سے جلد ہی ان کو یہ موقع ہاتھ آ گیا۔ 27 جولائی 1980 کو سرا ئے کشن لال میں مہتروں کی ایک بارات جا رہی تھی ۔ یہ شام کا وقت تھا اور مغرب کی اذان ہونے والی تھی ۔ بارات کے ساتھ ان کے رواج کے مطابق ناچ اور باجا بھی تھا۔ اس وقت چند مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بارات کو روکا اور کہا کہ مسجد کے پاس شور بند کرو اور بارات کو دوسرے راستہ سے لے جاؤ، بارات والے اس کے لیے راضی نہ ہوئے۔ اس پر تکرار ہو گئی۔ یہاں تک کہ با قاعدہ لڑائی شروع ہو گئی ۔ اس لڑائی میں مزید مسلمان شریک ہو گئے ۔ وہ مہتروں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر مہتر بستی تک گئے ، وہاں انھوں نے مہتروں کو مارا اور مکانات کو آگ لگائی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page