Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ڈاکٹر ہنس راج چو پڑہ اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کی باری تھی۔ انھوں نے مراد آباد اور اطراف مراد آباد میں اشتعال انگیز تقریریں کر کے فضا کو انتہائی حد تک مکدر کر دیا۔ اس کے بعد 13 اگست 1980 عید کا دن تھا۔ اس دن عید گاہ میں سور کے داخلہ سے مسلمان مشتعل ہو گئے اور انھوں نے پولیس پر پتھر مارے۔ فضا تیار تھی۔ اس کے فورا بعد مکمل پیمانہ پر فساد شروع ہو گیا۔ اور مراد آباد کی مسلم آبادی خاک وخون کی نذر ہو کر رہ گئی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اب دیکھیے کہ اس معاملہ میں قرآن وحدیث کی رہنمائی کیا ہے۔ قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ خدا ان پر غضب ناک ہوا ( اور ان پر دنیوی سزائیں بھیجیں )۔ ایسا اس لیے ہوا کہ وہ اپنے درمیان برائی کرنے والے کو برائی سے نہ روکتے تھے: کَانُوا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ( 5:79 )۔ حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔ ایک حدیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4338؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2307؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4005 )۔ یعنی، لوگ جب ظلم کرنے والے کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان پر اپنی سزا کو عام کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ " اجتماعی فساد کا سبب ہمیشہ "انفرادی فساد ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماعی فساد کو روکنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ انفرادی فساد کوروکا جائے ۔ اس ہدایت کے مطابق مسلم معاشرہ کو اتنا زندہ اور چوکنارہنا چاہیے کہ اس کا کوئی آدمی اگر کوئی شرارت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page