Urdu book · فسادات کا مسئلہ

قرآن و حدیث کی روشنی میں

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے تو فوراً آ س پاس کے لوگ جاگ اٹھیں اور ابتدائی میں شریر کا ہاتھ پکڑ لیں۔ معاشرہ کا کوئی فردا گر کسی آدمی کے ساتھ برائی کرے تو بقیہ لوگ غیر جانب دار بن کر نہ رہ جائیں۔ بلکہ وہ فوراً موقع پر پہنچیں اور برائی کرنے والے آدمی اور اس کی برائی کے درمیان حائل ہو جائیں۔ اگر وہ اس ابتدائی موقع پر بے تعلق ہو کر بیٹھ جائیں گے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ ایک آدمی کی شرارت ایسے عمومی فتنے برپا کرے گی جس کی لپیٹ میں پوری قوم آ جائے گی۔ مذکورہ اسلامی ہدایت براہِ راست طور پر آج کل کے فسادات پر چسپاں ہوتی ہے مسلمان اپنی بڑھی ہوئی جذباتیت کی وجہ سے اکثر غلطی کرتے ہیں کہ ایک معمولی بات کو برداشت نہیں کر پاتے اور دوسرے سے لڑ جاتے ہیں۔ یہ دوسرا اگر خود اپنی قوم کا آدمی ہے تو اس کا نقصان اکثر ایک آدمی یا ایک خاندان تک محدود رہتا ہے۔ لیکن یہ دوسرا آدمی اگر دوسرے فرقہ سے تعلق رکھتا ہو تو ایک مسلمان کی جذباتی کارروائی فوراً پوری قوم کو مشتعل کر دیتی ہے۔ موقع پرست لیڈر اشتعال انگیز تقریریں کر کے اس کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد ایسا فساد برپا ہوتا ہے جو پوری کی پوری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ علی گڑھ اور مراد آباد کا مذکورہ واقعہ اور اسی قسم کے دوسرے واقعات اس کا عملی ثبوت ہیں۔ چونکہ فسادات اکثر ان مقامات پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کرنے کی منظم سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ حالانکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جن مقامات پر بہتر حیثیت میں ہیں وہیں وہ جذباتی حرکتیں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کسی آدمی کو پر جوش کارروائی کرنے کے لیے ہمیشہ سماجی پشت پناہی درکار ہوتی ہے اور یہ سماجی پشت پناہی ان مقامات کے مسلمانوں کو با آسانی مل جاتی ہے جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بہتر ہوں۔ مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page