قرآن و حدیث کی روشنی میں
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
کے آپس کے جھگڑے اور اختلافات بھی انہیں مقامات پر زیادہ ہوتے ہیں جہاں انہیں کسی قدر معاشی اعتماد حاصل ہے۔ اسی طرح مسلمان اور غیر مسلمان کا تصادم بھی اکثر انہیں مقامات پر پیش آتا ہے جہاں مسلمان عددی اور اقتصادی اعتبار سے اپنے کو محفوظ سمجھتے ہوں۔ مذکورہ اسلامی ہدایت کی روشنی میں دیکھیے تو فساد کے خلاف ہماری موجودہ تمام سرگرمیاں بالکل عبث قرار پاتی ہیں۔ کیونکہ یہ ہدایت ربانی کے خلاف ہیں۔ خدا اور رسول کا حکم ہے کہ اپنے آدمی کو ابتدائی شرارت کے وقت پکڑو۔ مگر ہمارے تمام قائدین صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب کہ فساد بڑھ کر اپنی عمومی بربادی تک پہنچ چکا ہو۔ ابتدائی چنگاری دینے والے کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کوئی نہیں اٹھتا۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے تو کوئی بھی موقع پر پہنچ کر ظالم مسلمان کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ حالانکہ اس قسم کے مظلوم مسلمان اکثر منفی جذبات کا شکار ہو کر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جس کی سزا پورے معاشرہ کو بھگتنی پڑتی ہے۔ اسی طرح جب ایک غیر مسلم سے شکایت پیدا ہونے پر ایک مسلمان اس کے خلاف تخریبی منصوبہ بناتا ہے۔ جب کچھ مسلمان غیر مسلموں کے سامنے یہ بے معنی مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہماری نماز کے وقت اپنی عبادت گاہ کی گھنٹیاں نہ بجاؤ یا مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نہ لے جاؤ۔ تو ان مواقع پر مسلمانوں میں سے کوئی نہیں اٹھتا جو ایسے سر پھرے مسلمانوں کو روکے اور ان کو اس قسم کے برے افعال سے باز رکھے۔ البتہ جب ایک شخص کی برائی اپنا رد عمل ظاہر کر کے عمومی تباہی تک پہنچ چکی ہوتی ہے تو ساری مسلم قیادت میدان میں آجاتی ہے اور ہر ایک چاہتا ہے کہ وہ دوسرے سے آگے بڑھ جائے۔ یہ طریقہ سرا سر اسلامی ہدایت کے خلاف ہے اور جو طریقہ اسلامی ہدایت کے خلاف ہو اس کا کوئی نتیجہ خدا کی اس دنیا میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم ”انفرادی فساد“ کے وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader