قرآن و حدیث کی روشنی میں
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
متحرک ہوں مگر ہمارے تمام لیڈر صرف ”اجتماعی فساد“ کے وقت متحرک ہوتے ہیں۔ یہ خدا کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے خود ساختہ راستہ پر چلنا ہے اور خود ساختہ راستہ پر چلنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے، نہ کہ خدا کی نصرت کو اپنی طرف کھینچنا۔ ہمارے درمیان بے شمار تحریکیں اور جماعتیں قائم ہیں۔ ہر ایک دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا مقصد ہے : فسادات کا سد باب ، امت کا تحفظ ، نظام صالح کا قیام ، انسانیت کی پیغام رسانی ، وغیرہ۔ یہ تحریکیں اور جماعتی بڑے بڑے جلسے کرتی ہیں ، الفاظ کے طوفان برپا کرتی ہیں۔ ان کے میمورنڈم اور بیانات اور تجویزوں سے گدام کے گدام بھر چکے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ لفظی مہم سے کبھی کوئی عملی واقعہ برآمد نہیں ہوتا ، یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے فسادات کے بعد کیا جاتا ہے ۔ ابتدائی چنگاری کو بجھانے کے لیے ان میں سے کوئی کبھی نہیں دوڑتا۔ حالاں کہ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہر جماعت اور تحریک اور تمام اصلاح پسند شخصیتیں اپنے قریبی ماحول میں اپنے بھائیوں کی مسلسل نگرانی کریں۔ جہاں کوئی ایسا واقعہ ہو کہ ایک مسلمان کسی دوسرے پر کسی قسم کی دست درازی کرے ، خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان ، فوراً کچھ لوگ اس آدمی تک پہنچیں ۔ علاقہ کے ذمہ دار لوگوں کو جمع کریں اور اس کی شرارت کو وہیں کا وہیں ختم کر دیں۔ مسلمان اگر ابتدائی موقع پر اس حرکت اور حساسیت کا ثبوت دیں جس کا مظاہرہ وہ فساد کے بعد کرتے ہیں تو فساد کی جڑ کٹ جائے اور کبھی اس ملک میں کوئی فساد نہ ہو۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فسادات ہمیشہ سازش کے تحت ہوتے ہیں اور یہ سازش کچھ فرقہ پرست اور فسطائی جماعتیں کرتی ہیں۔ ان جماعتوں کا یہی مشن ہے اور اسی مقصد کے تحت انھوں نے اپنے آدمیوں کو تیار کر رکھا ہے۔ بالفرض یہ بات صحیح ہو تب بھی میں کہوں گا کہ یہ دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader