فسادات کا مسئلہ
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
مقابلہ کی جگہ ہے۔ یہاں بہرحال ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے کے خلاف تدبیریں کرے گا۔ اس لیے اصل کام ایسی جماعتوں کا انکشاف کرکے ان کے خلاف چیخ پکار کرنا نہیں ہے، بلکہ خاموش منصوبہ کے تحت ان کی کاٹ کے لیے اپنے کو مستعد کرتا ہے۔ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ہر گروہ کے خلاف اس کا حریف تدبیریں کرتا ہے اور ہر تدبیر کو دانش مندی کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لیے ہر طرف میدان خالی ہو اور ان کے خلاف کوئی سازش کرنے والا کہیں موجود نہ ہو ان کو خدا کی اس دنیا کو چھوڑ کر کوئی دوسری دنیا اپنے لیے بنانی چاہیے ۔ کیونکہ خدا نے اپنی دنیا جس قانون کے تحت بنائی ہے وہاں تو یہی ہوگا۔ پیغمبروں کے لیے بھی خدا نے اس معاملہ میں استثنا نہیں رکھا۔ پھر ہمارے لیے استثنا کیسے ہو سکتا ہے۔ سابق اہل کتاب کی مثال اب اس سلسلہ میں ایک اور آیت کا مطالعہ کیجیے۔ سورہ بقرہ میں یہود کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے: ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے اور اپنے لوگوں کو گھر سے بے گھر نہ کرو گے۔ تم نے اس کا اقرار کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو ۔ پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کر کے ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ حالانکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور اس کے دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں اور آخرت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (2:84-85)_

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader