Urdu book · فسادات کا مسئلہ

سابق اہل کتاب کی مثال

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مدینہ میں دو عرب قبیلے (اوس اور خزرج ) آباد تھے ۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی قبیلے (بنونضیر ، بنوقریظہ ، بنوقینقاع) تھے جو باہر سے آ کر یہاں بس گئے تھے۔ ان یہودی قبائل نے اپنے تعصبات اور قومی اغراض کے تحت عرب قبیلوں سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے ۔ عرب قبائل جب باہم لڑتے تو یہودی بھی اپنے اپنے مشرک حلیفوں کے ساتھ مل جاتے اور اس طرح دو عرب محاذوں میں شریک ہو کر ایک یہودی قبیلہ دوسرے یہودی قبیلہ سے جنگ کرتا ہجرت نبوی سے چند سال پہلے مدینہ میں جنگ بعاث ہوئی جو مدینہ کے مشرک قبائل کی باہمی جنگ تھی۔ اس جنگ میں یہود کے قبیلہ بنونضیر اور بنوقریظہ نے اوس کا ساتھ دیا اور بنوقینقاع نے خزرج کا۔ اس طرح اوس اور خزرج کی باہمی جنگ میں خود یہودی بھی باہم ایک دوسرے کے خلاف لڑپڑے ۔ اس قسم کی باہمی مقابلہ آرائی سراسر شریعت الہی کے خلاف تھی ۔ مگر جب جنگ ختم ہوتی تو دونوں طرف کے یہودی لیڈر "امدادی کام "شروع کر دیتے تا کہ ملت یہود کے لیے جہاد کرنے کا ثواب بھی انھیں مل جائے ۔ اس جاہلانہ معرکہ آرائی میں جب ایک یہودی قبیلے کے لوگ دوسرے قبیلے کے ہاتھ قید ہو جاتے تو مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر اپنے دینی بھائیوں کو دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑاتا اور اپنے اس عمل کے لیے تو رات کے احکام کا حوالہ دیتا جن میں ایک یہودی پر دوسرے یہودی کی مدد کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ حالاں کہ یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے اور اس کے بعد خدا اور رسول کا نام لے کر اس کی نماز جنازہ ادا کرے ۔ قرآن میں اس طرز عمل کی بابت کہا گیا کہ یہ حکم خداوندی کے ایک جزء کو مانا اور حکم خداوندی کے دوسرے جزء کا انکار کرتا ہے۔ کیوں کہ یہودی خدا کے اس حکم کو تو شوق سے لے رہے تھے کہ ملت یہود کے مظلوموں کی مدد کرو مگر اسی خدا کے اس حکم کو وہ اپنی زندگی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page