سابق اہل کتاب کی مثال
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
خارج کیے ہوئے تھے کہ ان راستوں پر مت چلو جو ملت کے اندر باہمی ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں اور نتیجہ ملت کے افراد کو مظلوم بناتے ہیں۔ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حکم الہی میں اس طرح کی تقسیم کسی کو اللہ کی نظر میں سزا کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ انعام کا۔ یہی صورت حال آج خود مسلمانوں میں جاری ہے اور نہ صرف کسی ایک ملک میں بلکہ تمام دنیا کی مسلم اقوام پر چسپاں ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں حکومت کی سطح پر حلیفانہ گروہ بندیاں اور جماعتوں کی سطح پر متحدہ محاذ کی سیاست براہ راست طور پر وہی چیز ہے جس کی یہود کے سلسلے میں مذمت کی گئی ہے۔ آج ہر جگہ یہ حال ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں یا غیر اسلامی طاقتوں کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں مسلم حکومتوں میں کوئی روسی کیمپ سے مل گیا ہے اور غیر روسی کیمپ میں شامل مسلم ملک پر چڑھائی کر رہا ہے اور کوئی امریکی کیمپ سے ملا ہوا ہے اور غیر امریکی کیمپ کے مسلم ملک کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ مسلم جماعتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی جماعت سوشلسٹ عناصر سے مل کر غیر سوشلسٹ مسلم جماعتوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور کوئی جماعت سیکولر عناصر سے مل کر غیر سیکولر کیمپ کی مسلم جماعتوں کے خلاف تخریبی کارروائیاں جاری کیے ہوئے ہے۔ یہی حال ہمارے ملک میں، خاص طور پر الیکشن کے مواقع پر ہوتا ہے۔ کچھ مسلمان حکمراں سیاسی پارٹی سے مل کر اپوزیشن پارٹیوں اور ان سے اتحاد کرنے والے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں اور کچھ مسلمان اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر حکمراں پارٹی اور اس سے وابستہ مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس جاہلی جنگ کے نتیجہ میں جب مسلمانوں کی بربادی سامنے آتی ہے تو ان میں سے ہر ایک ملی جہاد کے لیے دوڑتا ہے، ہر ایک امدادی کام میں دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader