فسادات کا مسئلہ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے ملک میں ہونے والے فسادات کم از کم وقتی سبب کی حد تک، اکثر انھیں انتخابی محاذ آرائیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مسلمان ان مواقع پر غیر مسلم پارٹیوں کے ساتھ مل کر دو جتھوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف ”اوس“ کا سیاسی محاذ ہوتا ہے اور دوسری طرف ”خزرج“ کا سیاسی محاذ کچھ مسلمان ایک طرف کے محاذ میں شامل ہو جاتے ہیں اور کچھ دوسری طرف کے محاذ میں۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے کو ہرانے اور نیچا دکھانے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں۔ جب الیکشن کا معرکہ ختم ہوتا ہے تو وہ صرف جیتنے والوں کے لیے ختم ہوتا ہے۔ ہارنے والوں کے لیے وہ دوبارہ نئی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔ اب ہارے ہوئے لیڈر جیتی ہوئی پارٹی کو بے اعتبار ثابت کرنے اور اپنی کھوٹی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے میدان میں نکل آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہارے ہوئے لیڈر جو کارروائیاں کرتے ہیں انھیں میں سے ایک فرقہ وارانہ فساد بھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو فرقہ وارانہ فسادات کے بعد مسلم قائدین کی طرف سے کیا جانے والا امدادی کام اور ملی جہاد براہ راست طور پر قرآن کے ان الفاظ کا مصداق ہے کہ: اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (2:85)۔ یعنی، کیا تم کتاب الہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو۔ خدا کے اس حکم کی تم کو پروا نہیں کہ تم اغیار کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہ کرو۔ اور جب جاہلانہ محاذ آرائی کے نتیجہ میں فساد رونما ہوتا ہے تو قرآن وحدیث کی تلاوت کرتے ہوئے اعانت مظلومین کے لیے نکل پڑتے ہو۔ یہ حکم خداوندی کی تعمیل نہیں بلکہ سستی لیڈری ہے۔ اور خدا کا انعام کسی خدا کے حکم کی تعمیل پر ملتا ہے، نہ کہ لیڈرانہ کارروائیوں پر۔ کرنے کا کام آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ فساد یا اغیار کی سازش نہیں ہے۔ سب سے بڑا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader