Urdu book · فسادات کا مسئلہ

کرنے کا کام

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ یہ ہے کہ فساد اور سازش کو ناکام بنانے کے لیے واقعی طور پر جو کچھ کرنا چاہیے وہ کسی طرح ان کے ذہن کے خانہ میں نہیں بیٹھتا۔ زندگی کے مسائل کا حل خدا نے سنجیدہ غور وفکر اور حقیقت پسندانہ پروگرام میں رکھا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے آج کے مسلمان آخری حد تک دور ہیں۔ وہ ہر دوسرے طریقہ پر بے پناہ سرمایہ اور طاقت خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں مگر حقیقت پسندانہ طریقہ کو زیر عمل لانے کے لیے نہ ان کے پاس پیسہ ہے اور نہ وقت۔ آج ان کا حال وہی ہو رہا ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًاً وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ۔ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (7:146-147)۔ یعنی، اور اگر دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ اور اگر دیکھیں راہ سنوار کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ یہ اس واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور ہو رہے ان سے بے خبر۔ اور جنھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور آخرت کی ملاقات ضائع ہوئیں ان کی محنتیں ، وہی بدلا پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے (ترجمہ شاہ عبدالقادر)۔ جب آدمی جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کا شکار ہو جائے تو صرف سطحی باتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں ، کوئی گہری بات اس کو اپیل نہیں کرتی۔ یہی آج مسلمانوں کا حال ہے۔ حقیقت پسندانہ طریقہ کار کے حق میں کتنے ہی کھلے کھلے دلائل دے دیے جائیں۔ مگر وہ ان کے ذہن کا جزو نہیں بنتے۔ وہ ایسے راستوں کی طرف تو تیزی سے دوڑ پڑتے ہیں جن کا آخری نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مگر ایسے راستے جو کامیابی کی طرف لے جانے والے ہوں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page