کرنے کا کام
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کو فلسفیانہ اور دور از کار کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک بے خبر انسان کی طرح وہ کبھی اس دیوار سے سر ٹکراتے ہیں اور کبھی اُس دیوار سے۔ ان کی کوششیں اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مسلسل بے قیمت ہوتی جارہی ہیں۔ مگر ان کی آنکھ کسی طرح نہیں کھلتی۔ نئے الفاظ بول کر وہ دوبارہ انھیں سطحی طریقوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جو بار بار تجربہ کے بعد اپنی ناکامی ثابت کر چکے ہیں۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کا مسلمان یا تو فراریت کی باتو ں کو قبول کرتا ہے یا تصادم کی باتوں کو۔ سارے مسلمان انھیں دو میں سے کسی طریقہ کی طرف دوڑ رہے ہیں تعمیر و استحکام کا طریقہ کسی طرح ان کے فکری سانچہ میں نہیں بیٹھتا لیکن اگر تم مزید اپنی قوتیں برباد کرنا نہیں چاہتے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے اس انداز کو بدلیں اور حقائق کی روشنی میں کوئی نتیجہ خیز پروگرام اپنے لیے بنائیں۔ ۱۔ فسادات کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور اور تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ ان کی جذباتیت ختم ہو، وہ جانیں کہ کس موقع پر انھیں کسی قسم کا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔ فسادات میں مسلمان کرڑوں روپے چندے دیتے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ فساد کا آغاز ہمیشہ ان لوگوں کی کسی حرکت سے ہوتا ہے جو جاہل یا بیروزگار ہیں تو اس قسم کی رقم کا بہترین مصرف یہ ہوگا کہ قوم کے جاہل لوگوں کو تعلیم یافتہ بنایا جائے اور جو لوگ بے روزگار ہیں ان کو کسی نہ کسی معاشی کام میں مصروف کر دیا جائے۔ قوم کو مشغول اور باشعور بنا کر زیادہ بہتر طور پر فسادات کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ یہ گویا فساد کو اس زمین سے محروم کرنا ہے جس پر اس کا خار دار درخت اگتا ہے۔ ۲۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے آج سب سے زیادہ جس کام میں مصروف ہیں وہ یہ کہ قوم کو جذباتیت کی شراب پلائی جائے اور نتیجۂ عوام کے درمیان سستی مقبولیت حاصل کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader