Urdu book · فسادات کا مسئلہ

کرنے کا کام

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

جاۓ۔ یہ سلسلہ قطعاً بند ہو جانا چاہیے۔ اس کے بجاۓ ہمارے قلم اور زبان کی طاقت کو تمام تر اس مقصد پر لگ جانا چاہیے کہ قوم کے افراد میں صبر اور حقیقت پسندی اور باہمی اتحاد کا جذبہ پیدا ہو کسی قوم کی طاقت کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد سنجیدہ انداز میں سوچنا جانتے ہوں ، نہ یہ کہ ان کو پر شور الفاظ کا مظاہر کرنے میں کمال حاصل ہو۔ 3۔ ہر جگہ کے مسلمان اس کو اپنی ذمہ داری سمجھیں کہ جب بھی کوئی شخص شرارت کرے، خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان، فورا موقع پر پہنچ کر شرير کا ہاتھ پکڑا جاۓ۔ فساد کے اجتماعی سطح پر پھیلنے سے پہلے اس وقت اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جاۓ جب کہ وہ ابھی انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور با آسانی اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فسادات ہونے کے بعد شور و غل کرنا جتنا بے معنی ہے اتنا ہی با معنی یہ ہے کہ فساد سے پہلے انفرادی جھگڑوں اور شکایتوں کو دور کرنے میں طاقت صرف کی جاۓ۔ 4۔ قوم کے عمل کے جذبہ کو دعوت و تبلیغ کے کام کی طرف موڑنے کی کوشش کی جاۓ۔ ہر مسلمان اپنے مزاج کے اعتبار سے مجاہدانہ مزاج کا حامل ہوتا ہے۔ یہ ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس مجاہدانہ مزاج کا استعمال سیاسی شور و غل اور باہمی اختلافات میں ہو رہا ہے۔ اس مجاہدانہ مزاج کے اظہار کا اصل میدان اللہ کے دین کو پھیلانا ہے اور اس کے لیے پر امن جد و جہد کرنا ہے۔ اگر مسلمانوں کے مجاہدانہ مزاج کو دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیا جاۓ تو بیشتر لڑائیاں اور اختلافات اسی طرح ختم ہو جائیں گے جیسے ایک بے کار آدمی ادھر اُدھر جھگڑتا پھرتا ہو اور اس کے بعد اچانک اس کو ایک اچھا روزگار ہاتھ آجاۓ اور وہ ساری خرافات کو ختم کر کے اپنے روزگار میں لگ جاۓ (26 ستمبر 1980)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page