Urdu book · فسادات کا مسئلہ

سنجیدہ ہونا ضروری ہے

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

سنجیدہ ہونا ضروری ہے ایک صاحب اپنے بچوں کے لیے بہت سخت تھے۔ ہمیشہ ڈانٹ کر بات کرتے تھے کبھی کسی نے ان کو اپنے بچوں کے ساتھ نرمی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لڑکے ان سے اس قدر ڈرتے تھے کہ ان کے سامنے کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ جب وہ گھر میں داخل ہوتے تو تمام بچے خاموش ہو کر ادھر ادھر دب جاتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے۔ سیڑھی کو طے کر کے جب وہ اپنے مکان کی چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا ایک بچہ بجلی کے پول سے لپٹا ہوا ہے۔ بجلی کے تار میں ایک پتنگ پھنس گئی تھی۔ پتنگ کو حاصل کرنے کے شوق میں لڑکا بارجہ کا سہارا لے کر پل پر چڑھ گیا۔ ابھی اس کا کام پورا نہیں ہوا تھا کہ اس کے باپ آگئے۔ نگاہیں ملتے ہی بچہ سہم گیا مگر بالکل خلاف معمول باپ نے کوئی سخت بات نہیں کی بلکہ نہایت نرم لہجہ میں بولے : " بیٹے تم وہاں کہاں۔ " اس کے بعد انھوں نے محبت کے انداز میں لڑکے کو ترغیب دی کہ وہ آہستہ آہستہ اترے اور بارجہ کا سہارا لے کر دوبارہ گھر میں آجائے۔ بعد کو ایک شخص سے انھوں نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: میں نے مسکرا کر اور نرم لہجہ میں اس لیے بات کی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس نازک موقع پر ڈانٹتا ہوں تو وہ گھبرا اٹھے گا اور پول سے چھوٹ کر نیچے سڑک پر جا گرے گا۔ اس نزاکت نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی عادت کے خلاف بچہ سے میٹھے انداز میں بات کروں۔ یہی مثال ملی مسئلہ پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔ اگر آدمی کو صورت حال کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ اس کے لیے دردمند ہو تو اس کی دردمندی خود ہی مجبور کرے گی کہ وہ اشتعال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page