بے برداشت نہ بنو
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
بے برداشت نہ بنو قرآن کی سورہ نمبر 30 کی آخری آیت میں ارشاد ہوا ہے : پس تم صبر کرو، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور تم کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے : فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ (30:60) ۔ زمین سے ایک پھل دار درخت کا پودا اگتا ہے ۔ قانون قدرت کے مطابق اس میں دسویں سال پھل لگنے والا ہے۔ اب اگر کچھ لوگ جلد بازی کریں اور پودا نکلنے کے چند ماہ بعد ہی اس کا پھل لینا چاہیں تو وہ اپنی جلد باز کارروائیوں سے درخت کو برباد کر دیں گے اور اس کا قدرتی امکان برروئے کار آنے سے رہ جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ سماجی زندگی میں ظاہر ہونے والے واقعات کا بھی ہے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل حق کو عزت اور غلبہ دے گا۔ مگر درخت کی طرح اس غلبہ کے ظہور کا بھی ایک قانون ہے۔ اگر اس قانون کی رعایت نہ کی جائے اور وقت سے پہلے اس کو پانے کی خواہش کی جائے تو یہ ایسی نادانی ہوگی جس سے غلبہ تو نہیں ملے گا البتہ اس کے امکانات برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ خدا کی طرف سے جو غلبہ کا وعدہ ہے وہ اس بنیاد پر ہے کہ اہل حق اپنے حصہ کا کام کر دیں ۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین پر قائم کریں ، وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔ وہ ممکن دائروں میں اپنے آپ کو مستحکم بنائیں ۔ اسی کے ساتھ وہ فریق ثانی کو حق کی دعوت دیں۔ وہ دعوت کے تمام حکیمانہ تقاضوں کا اہتمام کرتے ہوئے اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچائیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کے یہاں کسی گروہ کا یہ استحقاق ثابت کرتی ہیں کہ وہ ان کو غالب کرے اور ان کے مقابلہ میں ان کے حریف کو مغلوب کر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader