Urdu book · فسادات کا مسئلہ

بے برداشت نہ بنو

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

جب اہل حق کے درمیان یہ تمام کام جاری ہوتے ہیں تو فریق ثانی کی طرف سے بار بار اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں۔ ذہنی اور عملی پہلوئوں سے ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو اہل حق کو بھڑک دینے والی ہوں۔ یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اہل حق کی شانتی بھنگ ہوجائے اور وہ فریق ثانی کے چھیڑے ہوئے فتنوں میں اپنے آپ کو الجھا دیں تو اصل کام رک جاتا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان دوسرے غیر متعلق امور پر لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ اس قسم کی لڑائی کا آخری فیصلہ ہمیشہ اہل حق کے خلاف ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا غلبہ خدا کی مدد سے ہوتا ہے اور انھوں نے اصل کام کو نامکمل حالت میں چھوڑ کر غلبہ کا استحقاق کھودیا۔ انھوں نے بے برداشت ہوکر خدا کی نافرمانی کی اور خدا کی نافرمانی کرنے والوں کو کبھی خدا کی نصرت نہیں پہنچتی۔ بے برداشت ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں ۔ مثلاً اعلیٰ مقصد کی خاطر چھوٹے نقصانات کو برداشت نہ کرنا اور ان کے لیے لڑ جانا۔ جذباتی ٹھیس پہنچنے والے معاملات کو نظر انداز نہ کرنا اور اپنے کو ان میں الجھا لینا ۔ سماجی اور معاشی مسائل میں خود تعمیری کے اصول پر عمل نہ کرنا اور مطالبہ اور احتجاج کی سیاست میں اپنے کو مشغول کر لینا۔ اپنے افراد میں کردار کی طاقت پیدا کرنے سے پہلے بڑے بڑے اقدامات کرنے لگنا۔ اجتماعی زندگی میں پیش آنے والی فطری زیادتیوں کو غیر ضروری اہمیت دینا اور ان کی خاطر تصادم چھیڑ دینا۔ دوسروں سے غیر حقیقی توقعات قائم کرنا اور جب وہ توقعات پوری نہ ہوں تو جھنجھلا کر ان سے مڈبھیڑ شروع کردینا۔ انسانی کمزوریوں کی رعایت نہ کرنا اور کسی کے اندر ایک بشری کمزوری پا کر اس کو اچھالنا اور اس کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کرنا۔ سیاسی حکمرانوں سے مفاہمت نہ کرنا اور قبل از وقت ان سے ٹکرا جانا ، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page