تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
یادداشت کے تحت انجام دیے جاتے تھے۔ چنانچہ حدیث کی کتابوں میں کتاب الصوم کے تحت آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی لوگ ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں : اِنَّا اُمَّةٌ اُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسِبُ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1913)۔ حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت میں اس وقت کے متمدن مما لک اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے یہاں حساب و کتاب کے لیے باقاعدہ رجسٹر ہوتے ہیں۔ خلیفہ دوم کے حکم سے تحریری ریکارڈ کا یہ نظام پوری طرح اسلام میں اختیار کر لیا گیا۔ اسلامی تاریخ میں اس کو دیوان کہا جاتا ہے۔ یہ واضح طور پر اجتہاد کی ایک مثال تھی۔ اگر وہ اجتہاد سے کام نہ لیتے تو لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسِبُ کو بالکل لفظی معنی میں لے کر اپنی سابقہ حالت پر قائم رہتے اور غیر مسلم قوموں کے رواج کے مطابق اپنے یہاں دفاتر کا وہ نظام قائم نہ کرتے جس کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب الفاروق کی جلد دوم میں جمع کی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس نوعیت کے بہت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً زراعت الاعضاء یا اعضاء کی منتقلی (organ transplants) کا مسئلہ۔ اس قسم کے مسائل پر علما نے اجتہاد و قیاس کے ذریعہ فتوے دیے ہیں (العالم الاسلامی، مکہ، 11-5 رجب 1416 ھ)۔ یہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ مگر کبھی حالات میں کلی نوعیت کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ اس وقت کلی نوعیت کے اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس دوسری نوعیت میں اجتہاد کی ضرورت اول الذکر قسم سے بھی زیادہ ہے۔ اول الذکر نوعیت کے مسائل میں اجتہاد نہ کرنے سے اگر جزئی نقصان کا اندیشہ ہے تو ثانی الذکر نوعیت کے مسائل میں اجتہاد نہ کرنے سے کلی نقصان کا اندیشہ۔ موجودہ زمانہ غیر معمولی تبدیلیوں کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں بہت سے ایسے نئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader