تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل پیدا ہوئے ہیں جو قدیم زمانہ میں موجود نہ تھے۔ ضرورت ہے کہ آج کلی نوعیت کے اجتہاد سے کام لیا جائے۔ بصورت دیگر، ملت اسلام موجودہ زمانہ میں اپنا مقام حاصل نہ کر سکے گی اور اپنا کردار ادا کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔ اس طرح کے معاملہ میں مجتہدانہ بصیرت کا فقدان کتنا تباہ کن ہوسکتا ہے، اس کی ایک مثال لیجئے۔ قدیم زمانہ میں توحید کے داعیوں نے جب توحید کی دعوت دی تو حکومت وقت نے ان کو ظلم کا نشانہ بنایا۔ مگر آج ایسا نہیں ہوتا۔ اس فرق کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ آج دعوت اسلام کا جو کام ہے وہ غلط تصور اسلام پر قائم ہے۔ یہ لوگ اصل اسلام کی دعوت نہیں دیتے، اس لیے لوگوں کے ساتھ ان کا ٹکراؤ بھی پیش نہیں آتا۔ اگر وہ صحیح اسلام کی دعوت دیتے تو ضرور ایسا ہوتا کہ انھیں ستایا جاتا اور ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا۔ اس مفروضہ کو لے کر انھوں نے بطور خود اسلام کی ایسی سیاسی اور انقلابی تعبیر کی کہ اسلام حکمراں طبقہ کا مد مقابل بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ توحید سے مراد سیاسی توحید ہے۔ اس کا مطلب ایک خدا کے سوا تمام حاکموں کی سیاسی بغاوت ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسانی حاکموں سے لڑ کر انھیں اقتدار سے بے دخل کیا جائے اور خلیفہ اللہ کی حیثیت سے ساری دنیا پر مسلم حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ بہت سے مسلم نو جوان اسلام کی اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہوئے۔ اور پھر انھوں نے انسانی حاکموں کا باغی بن کر ساری دنیا میں گن اور بم کا کلچر چلا دیا۔ اب ہر جگہ حکمرانوں کی طرف سے ان نئے ”داعیان اسلام“ پر تشدد کیا جانے لگا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ مفکرین نے اعلان کر دیا کہ دیکھو، یہ ہے اصل اسلام۔ چنانچہ جو لوگ اس کے لیے کھڑے ہوئے ان کے ساتھ بھی حکومت وقت کی طرف سے وہی تشدد کیا جانے لگا جو ماضی کے داعیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مگر یہ اجتہادی صلاحیت کے فقدان کا نتیجہ تھا، وہ صحیح اسلام کے لیے کھڑے ہونے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader