تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کے آدمی کے لیے امید کی ایک ہی صورت ہے اور وہ موت ہے: The legal condition of the Sudra left him only death as a means of improving his condition. (Encyclopædia Britannica, 1984, vol. 16, p. 858) اس قسم کا عقیدہ قدیم دنیا میں قابل قبول ہوسکتا تھا۔ مگر آج کی دنیا میں وہ نہیں چل سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ریفارم لایا جائے اور اس کو عصر حاضر کے ماننے ہوئے تصور کے مطابق بنایا جائے۔ مگر اسلام کے لیے اس قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ کیوں کہ اسلام میں اول دن سے انسانی برابری کا تصور موجود ہے۔ اسلام کے تصور انسانیت میں اور عہد جدید کے تصور انسانیت میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ تاہم زمانی تبدیلی کا ایک اور مسئلہ ہے۔ وہ عین فطری ہے اور وہ اسلام میں بھی بار بار پیش آتا ہے۔ مگر یہ اصلاح یا تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ از سر نو تطبیق کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کا حل اصلاح نہیں ہے بلکہ اجتہاد ہے۔ اصلاح خود اصل مذہب میں ترمیم کے لیے ہوتی ہے۔ جب کہ اجتہاد کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ابدی احکام کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے اس کو سمجھا جائے اور پھر اس کو اس کی اصل اسپرٹ کے ساتھ نئے حالات پر ازسر نو منطبق کیا جائے۔ ریفارم اگر نظرثانی (revision) کا نام ہے تو اجتہاد تطبیق نو (re-application) کا نام۔ نئے پیدا ہونے والے مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک جزئی نوعیت کے مسائل، اور دوسرے کلی نوعیت کے مسائل۔ اگرچہ دونوں ہی قسم کے مسئلوں میں اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جزئی نوعیت کے مسائل پہلے بھی بار بار پیش آئے اور آج بھی وہ بار بار پیش آسکتے ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں تحریری ریکارڈ رکھنے کا رواج نہ تھا۔ تمام معاملات سادہ طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader