میدانِ عمل میں تبدیلی
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
میدانِ عمل میں تبدیلی موجودہ زمانہ میں خاص طور پر مغربی میڈیا مسلسل یہ تاثر دے رہا ہے کہ اسلام اپنے روایتی تصور کے اعتبار سے ایک ناروادار مذہب (intolerant religion) ہے۔ وہ موجودہ روادار دنیا (tolerant world) میں چل نہیں سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی از سر نو تشکیل کر کے یا اس میں تغیر و تبدیل کر کے اس کو روادار مذہب بنایا جائے۔ ورنہ دنیا اسے رد کر دے گی۔ کیوں کہ آج کی دنیا کسی بھی ایسی آئیڈیالوجی کو قبول نہیں کر سکتی جس کی بنیاد نارواداری پر ہو، جیسا کہ کمیونزم کے ساتھ پیش آیا۔ مگر یہ تشکیل نو کا مسئلہ نہیں بلکہ اعلان نو کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ مغربی میڈیا نے یہ نظریہ ان عملی واقعات کو سامنے رکھ کر بنایا ہے جو آج اسلام کے نام پر جگہ جگہ کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً غیر مسلم قوموں کے ساتھ فلپائن، کشمیر، چیچنیا، بوسنیا وغیرہ میں۔ اور خود مسلم گروہوں کے ساتھ پاکستان، مصر، الجزائر، افغانستان وغیرہ میں۔ یہ لڑائیاں جو کچھ مسلمان کہیں غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ اور کہیں خود مسلم حکمرانوں کے ساتھ اسلام کے نام پر لڑ رہے ہیں وہ سراسر غیر اسلامی ہیں۔ بلکہ خالص فقہی زبان میں یہ تمام لڑائیاں فعل حرام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور یہ اس مسئلہ میں اسلام کا وہ حکم ہے جو اب سے چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام نے واضح طور پر بتایا تھا اور آپ کے بعد وہ فقہ میں باقاعدہ طور پر مدون ہو چکا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد کے دور کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان کو کسی بھی مجموعۂ حدیث میں کتاب الفتن کے ابواب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان روایتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں میں بگاڑ آئے گا مگر تم اس سیاسی بگاڑ پر صبر کرنا اور ہرگز ان کے خلاف جنگی اقدام نہ کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader