اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے علما اجتہاد کا دروازہ بند کر کے اگر اپنے آپ کو مجتہدانہ بصیرت سے محروم نہ کر چکے ہوتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ جدید علوم کی اہمیت اگرچہ قرآن کی آیتِ علم سے نہیں نکلتی مگر وہ قرآن کی آیتِ قوت سے پوری طرح نکل رہی ہے۔ یہ علوم دورِ جدید کی قوت ہیں اس لیے قرآن (8:60) کے حکم (اعدادِ قوت) کے مطابق ، ہمیں چاہیے کہ ان کو بھر پور طور پر حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ میں ایک عجیب مظہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ مسلمان جو دورِ زراعت میں دنیا کی امامت کر رہے تھے وہ دورِ صنعت میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ گئے۔ اس مظہر کی توجہ عام طور پر صرف ایک کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ المیہ صلیبیوں اور صہونیوں کی سازش کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اسی ذہن کی ترجمانی کرتے ہوئے 80 سال پہلے شبلی نعمانی نے کہا تھا: کہاں تک لو گے ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک آج بھی مسلمانوں کے تمام اخبار ورسائل خواہ وہ اُردو کے ہوں یا عربی کے یا کسی اور زبان کے ، سب کے سب ”نظر یہ سازش“ کی تفصیلات سے بھرے رہتے ہیں۔ مگر یہ نظریہ نہ صرف لغو ہے بلکہ وہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ قرآن میں صاف طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آدمی جو کچھ بھگتتا ہے وہ صرف اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس پس ماندگی کا واحد سبب جدید علوم میں مسلمانوں کا پچھڑاپن ہے۔ مسلمان جدید علوم میں پیچھے ہو گئے ، اس لیے وہ جدید صنعت میں بھی پیچھے ہو گئے ، اور جدید صنعت میں پیچھے ہونے کے نتیجہ میں وہ دورِ جدید کے ہر شعبہ میں پچھڑ کر رہ گئے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں تمام چیزوں کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader