میدانِ عمل میں تبدیلی
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے صحیح مسلم کے شارح امام نووی لکھتے ہیں کہ سیاسی حاکموں سے ان کے حکومتی معاملات کے بارے میں تعرض نہیں کرنا چاہئے۔ اور اگر کوئی بات واضح طور پر قواعد اسلام کے خلاف ہو تب بھی قول کے درجہ میں اس کا اظہار کرنا چاہئے۔ اور جہاں تک ان کے خلاف عملی بغاوت اور جنگ کا تعلق ہے تو وہ حرام ہے اور اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے۔ خواہ یہ حکمراں فاسق اور ظالم ہوں (وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ) شرح النووی علی مسلم، جلد 12، صفحہ 229۔ امام نووی مزید لکھتے ہیں کہ علما نے کہا ہے کہ حکمر اں کو معزول نہ کرنا اور اس کے خلاف بغاوت کا حرام ہونا، اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے فتنے پیدا ہوں گے اور خون بہایا جائے گا اور باہمی فساد واقع ہوگا۔ پس حکمراں کو معزول کرنا اس سے زیادہ بگاڑ پیدا کرے گا جتنا کہ اس کا باقی رہنا (وَسَبَبُ عَدَمِ انْعِزَالِهِ وَتَحْرِيمِ الْخُرُوجِ عَلَيْهِ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الْفِتَنِ وَإِرَاقَةِ الدِّمَاءِ وَفَسَادِ ذَاتِ الْبَيْنِ فَتَكُونُ الْمَفْسَدَةُ فِي عَزْلِهِ أَكْثَرَ مِنْهَا فِي بَقَائِهِ ) شرح النووی علی مسلم، جلد 12، صفحہ 229۔ حکمرانوں سے جنگ کو حرام قرار دینے کا مطلب مسلمانوں کو بے عمل بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح اہل اسلام کو یہ راستہ دکھایا گیا ہے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کرنے سے بچیں اور امن کی طاقت کو استعمال کریں۔ اسلام میں جس طرح فرد کی اصلاح ضروری ہے، اسی طرح سماج کی اصلاح اور حکومت کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ مگر اصلاح کی یہ کوشش اسی دائرہ میں رہ کر کی جانی چاہیے جو حالات کے اعتبار سے امن کے ذریعہ ممکن ہے۔ بنوامیہ اور بنوعباس کے زمانہ میں حکومت میں بہت زیادہ بگاڑ آ گیا تھا۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں علما اور صلحاء مسلم معاشرہ میں موجود تھے۔ مگر انھوں نے ان حکمرانوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader