Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاف بغاوت نہیں کی۔ ان کی یہ روش بے عملی نہیں تھی۔ یہ بے فائدہ عمل سے ہٹ کر بافائدہ عمل کے میدان میں سرگرم ہونا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ کے علما اور اہل دین نے حکومت سے ٹکراؤ کو چھوڑ کر قرآن، حدیث، سیرت، تاریخ اور مختلف علوم و فنون میں محنت شروع کر دی ۔ وہ دعوت واصلاح کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے نئی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی جدوجہد میں اپنے آپ کو لگا دیا۔ وغیرہ یہی وہ کوششیں ہیں جو دور اول میں شاندار اسلامی تمدن کی صورت میں ظاہر ہوئیں ۔ اس کے برعکس اگر وہ حکمرانوں سے لڑ جاتے تو وہ صرف بربادی کی تاریخ بناتے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔ اس نوعیت کے چند امور اور ہیں جن کا تذکرہ یہاں مناسب ہوگا۔ تا ہم ان کے معاملہ میں اسلام کی پوزیشن معروف معنوں میں تشکیل جدید کی نہیں ہے، بلکہ اعلان جدید کی ہے۔ یہاں ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ انسانی غبار کو ہٹا کر قرآن و سنت کی روح کو ہم از سرِ نو دریافت کریں۔ تدریجی نہ کہ انقلابی کچھ مغربی دانشور کہہ رہے ہیں کہ سوویت یونین کے سقوط (1991ء) کے بعد امریکہ نے اسلام کو اپنے دشمن کے طور پر پروجیکٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پر مسلم دانشوروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام کسی کا دشمن نہیں، اور امریکہ محض سازش کے تحت فرضی طور پر اسلام کو اپنے دشمن کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ مگر امریکہ کے سامنے اصل مسئلہ نظریاتی اسلام کا نہیں ہے بلکہ عملی مسلمانوں کا ہے۔ امریکہ کے مبصرین یہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اسلام کو اسی طرح ایک "انقلابی" نظریہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس طرح اس سے پہلے کمیونزم یا مارکسزم کو پیش کیا جاتا تھا، اور جس کے نتیجہ میں کمیونزم جدید صنعتی نظام کا دشمن قرار پایا۔ اب اگر موجودہ مسلم مفکرین کی رائے کے مطابق ، اسلام اسی طرح ایک انقلابی نظریہ ہو جس طرح کمیونزم ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page