تدریجی نہ کہ انقلابی
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
انقلابی نظریہ تھا تو امریکہ بالکل حق بجانب ہوگا اگر وہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اسلام کو اپنا دشمن تصور کرے۔ مگر میں کہوں گا کہ اسلام کی یہ عسکری یا انقلابی تعبیر درست نہیں، اس لیے امریکہ یا کسی غیر امریکہ کا یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اسلام اس کا دشمن ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ، کارل مارکس نے سماجی انقلاب کا ایک نظریہ پیش کیا جو مختلف اسباب سے ساری دنیا میں پھیل گیا۔ یہاں تک کہ وہ تمام لوگوں کے درمیان کچھ دنوں کے لیے سب سے زیادہ مقبول نظریہ بن گیا۔ مارکس کی نظر میں سیاست کے لیے طاقت انتہائی ضروری ہے۔ انقلاب پسندوں کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ وہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کریں۔ بقیہ تمام چیزیں اسی کے اوپر منحصر ہیں : In Marx's view power and politics are crucial, the seizure of power by the revolutionaries is the first step that determines all the rest. (Encyclopedia Britannica, 1984, vol. 15, p. 788) یہ انقلابی نظریہ جب دنیا میں پھیلا تو جس طرح دوسرے حلقے اس سے متاثر ہوئے ۔ اسی طرح بہت سے مسلم مفکرین بھی اس سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ انھوں نے اسلام کے تحریکی عمل کو بھی اسی پر ڈھال دیا۔ انھوں نے اسلامی تحریک کی تشریح اس طرح کی کہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کو دکھائی دینے لگا کہ اسلام بھی ، کمیونزم کی طرح، ایک انقلابی نظریہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کی طاقت پر بزور قبضہ کر کے پوری زندگی کے نظام کو شریعت کے مطابق قائم کیا جائے۔ اس اسلامی تصور میں، کمیونزم کی طرح، یہ ضروری قرار پایا کہ سب سے پہلے سیاسی اقتدار پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ اقتدار کی کنجیوں کے مالک آسانی سے اس کو کسی اور کے حوالے نہیں کرتے۔ اس لیے اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ لڑ کر ارباب حکومت سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader