تدریجی نہ کہ انقلابی
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
اقتدار کی کنجیاں چھین لیں تا کہ زمین کے اوپر شریعتِ الٰہی کے قوانین نافذ کیے جا سکیں۔ اسلام کی یہی وہ انقلابی تفسیر ہے جس نے موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ہر جگہ متحرک کر رکھا ہے۔ وہ ہر ملک میں حکمراں طبقہ سے ”اقتدار کی کنجیاں “ چھینے میں مصروف ہیں۔ اور جس طرح کمیونسٹ لوگ اپنے اس مقصد میں تشدد کی آخری حد تک پہنچ گئے، اسی طرح یہ مسلم انقلابی بھی تشدد کے تمام ممکن حربوں کو استعمال کر کے اپنے مقصد کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔ مسلم انقلابیوں نے ساری دنیا میں یہ جو متشددانہ صورت حال پیدا کر رکھی ہے، وہ یقینی طور پر نہ صرف مغربی تہذیب کے لیے بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اگر یہی اسلام ہو تو یقینی طور پر دنیا حق بجانب ہوگی اگر وہ اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھے اور دورِ جدید کے دانشور خطرہ اسلام (Threat of Islam) جیسی کتابیں لکھ کر شائع کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مارکسزم تاریخِ انسانی کی ایک خود ساختہ تشریح تھی، اسی طرح اسلام کی یہ نام نہاد انقلابی تشریح بھی یقینی طور پر بالکل بے بنیاد تشریح ہے۔ اس کا کوئی بھی تعلق اس اسلام سے نہیں ہے جو قرآن وسنت کی صورت میں ہمیں دیا گیا ہے۔ ایک لفظ میں ، اسلام کا طریقِ کار تدریجی ہے ، انقلابی نہیں۔ فطرت کا پورا نظام تدریج کے اصول پر چلتا ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس لیے وہ بھی مکمل طور پر ایک تدریجی نظام ہے، نہ کہ نام نہاد انقلابی نظام۔ صحیح البخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ قرآن میں ابتداء وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ تائب ہو کر اسلام میں آگئے (اور ان میں قبولیت کی استعداد پیدا ہوگئی) تو حلال اور حرام کے احکام اترے (حَتّٰي إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ)۔ اور اگر ابتدائی میں یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر ابتدائی میں یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader