تدریجی نہ کہ انقلابی
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 ) ۔ یہ روایت اور اس طرح کے دوسرے نظائر ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح اور تبدیلی کا طریقہ تدریجی طریقہ ہے ۔ موجودہ نام نہاد انقلابی (revolutionary) طریقہ اسلام کا طریقہ نہیں ۔ خالص اسلامی نقطۂ نظر سے، موجودہ زمانہ کی تمام وہ انقلابی تحریکیں غیر اسلامی تحریکیں ہیں جو تشدد کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تا کہ اسلام کا سیاسی اور قانونی نظام نافذ کریں ۔ اس قسم کی تحریکیں چلانے والے افراد یقینی طور پر امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں ۔ مگر جہاں تک خدا کے دین اسلام کا تعلق ہے، وہ ہرگز امن عالم کے لیے خطرہ نہیں ۔ کیونکہ اسلام اپنا طریق فکر اور اپنا طریق زندگی تمام تر امن اور ترغیب اور تدریج کے اصول پر لانا چاہتا ہے، نہ کہ زور زبردستی کے ذریعہ ۔ اجتہاد دو طرفہ معرفت کا طالب ہے ۔ ایک طرف اسلام اور دوسری طرف جدید احوال ۔ اگر دور جدید کو اس قسم کی اجتہادی نگاہ سے دیکھا جاتا تو نتیجہ بالکل مختلف ہوتا۔ اب دکھائی دیتا کہ جدید نظام سیاست ، کم از کم نظری طور پر ، اسلام کی روح سے بہت قریب ہے ۔ بلکہ وہ اسلام کے لائے ہوئے فکری انقلاب ہی کا ایک ضمنی حاصل ہے ۔ مثلاً موجودہ دور میں عدلیہ اور انتظامیہ کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا، قانون کے آگے ہر شخص کا اصولی طور پر برابر ہونا، سماجی انصاف ، انسانی برابری کی قدروں کا عالمی اعتراف ، مذہبی جبر سے حکومت کا رشتہ منقطع کیا جانا، وغیرہ ۔ اس قسم کے بہت سے اصول (norms) جو موجودہ زمانہ میں عمومی طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں ، وہ عین اسلام کے حق میں ہیں ۔ بلکہ اسلام کے لیے لائے ہوئے فکری اور عملی انقلاب ہی کا ایک بالواسطہ نتیجہ ہیں ۔ ان کی حیثیت حدیث کے الفاظ میں ”ضَالَةُ الْمُؤْمِنْ“ کی تھی ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2882 ) ۔ اگر مجتہدانہ بصیرت سے کام لیا جاتا تو یہ سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader